السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من قال لأمته أنت علي حرام لا يريد عتاقا باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی لونڈی سے کہا: ”تو مجھ پر حرام ہے“ اور اس کا ارادہ اسے آزاد کرنے کا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 15076
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَصْبَهَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَفْصَةُ حَتَّى جَعَلَهَا عَلَى نَفْسِهِ حَرَامًا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ".حافظ ثناء اللہ
ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک لونڈی تھی، جس سے آپ ﷺ مجامعت فرماتے تھے، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار کی وجہ سے آپ ﷺ نے اس لونڈی کو اپنے اوپر حرام کر لیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی! آپ نے کیوں حرام قرار دیا جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دیا، صرف اپنی بیویوں کی رضامندی کے لیے۔“