السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من قال لأمته أنت علي حرام لا يريد عتاقا باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی لونڈی سے کہا: ”تو مجھ پر حرام ہے“ اور اس کا ارادہ اسے آزاد کرنے کا نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ الْهَرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا عُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَجُوَيْبِرٌ، ⦗٥٧٩⦘ عَنِ الضَّحَّاكِ، أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَارَتْ أَبَاهَا ذَاتَ يَوْمٍ وَكَانَ يَوْمُهَا، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَهَا فِي الْمَنْزِلِ فَأَرْسَلَ إِلَى أَمَتِهِ مَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ فَأَصَابَ مِنْهَا فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَجَاءَتْ حَفْصَةُ عَلَى تِلْكَ الْحَالَةِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَفْعَلُ هَذَا فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي؟ قَالَ: " فَإِنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ لَا تُخْبِرِي بِذَلِكَ أَحَدًا "، فَانْطَلَقَتْ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا بِذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] إِلَى قَوْلِهِ: {وَصَالِحِ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: ٤] فَأُمِرَ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِهِ وَيُرَاجِعَ أَمَتَهُ " وَبِمَعْنَاهُ ذَكَرَهُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ مُرْسَلًا.ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اپنی باری کے دن والد کی زیارت کو چلی گئیں، جب نبی ﷺ آئے تو انہیں گھر میں نہ دیکھا، آپ ﷺ نے اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ کو بلا کر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہم بستر ہو گئے، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اسی حالت میں آگئیں، کہتی ہیں: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے یہ کیا کیا میرے گھر میں اور میری باری کے دن؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے اوپر حرام ہے لیکن کسی کو خبر نہ دینا۔“ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے جا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] الی قولہ ﴿وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة التحريم: 4]، آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ قسم کا کفارہ دے کر لونڈی سے رجوع کریں۔