حدیث نمبر: 15075
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَمِّي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] إِلَى قَوْلِهِ: {وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ} [التحريم: ٢]، قَالَ: " كَانَتْ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُتَحَابَّتَيْنِ وَكَانَتَا زَوْجَتَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَتْ حَفْصَةُ إِلَى أَبِيهَا تَتَحَدَّثُ عِنْدَهُ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَارِيَتِهِ، فَظَلَّتْ مَعَهُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، وَكَانَ الْيَوْمَ الَّذِي يَأْتِي فِيهِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَرَجَعَتْ حَفْصَةُ فَوَجَدَتْهَا فِي بَيْتِهَا فَجَعَلَتْ تَنْتَظِرُ خُرُوجَهَا وَغَارَتْ غَيْرَةً شَدِيدَةً فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَارِيَتَهُ وَدَخَلَتْ حَفْصَةُ فَقَالَتْ: قَدْ رَأَيْتُ مَنْ كَانَ عِنْدَكَ وَاللهِ لَقَدْ سُؤْتَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللهِ لَأُرْضِيَنَّكِ وَإِنِّي مُسِرٌّ إِلَيْكِ سِرًّا فَاحْفَظِيهِ " فَقَالَ: " إِنِّي أُشْهِدُكِ أَنَّ سُرِّيَّتِي هَذِهِ عَلَيَّ حَرَامٌ رِضًا لَكِ "، وَكَانَتْ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ تَظَاهَرَتَا عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَتْ حَفْصَةُ فَأَسَرَّتْ إِلَيْهَا سِرًّا وَهُوَ أَنْ أَبْشِرِي، إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْهِ فَتَاتَهُ، فَلَمَّا أَخْبَرَتْ بِسِرِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظْهَرَ اللهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
حافظ ثناء اللہ

عطیہ بن سعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة التحريم: 1 - 2] کے متعلق نقل فرماتے ہیں: ”اے نبی! آپ نے کیوں حرام کر لیا جو چیز اللہ نے آپ کے لیے حلال رکھی ہے اور وہ جاننے والا حکمت والا ہے۔“ فرماتے ہیں کہ حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما دونوں اپنے خاوند نبی ﷺ سے محبت کرتی تھیں۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا اپنے والد کے گھر جا کر بات چیت کرتی رہیں تو نبی ﷺ نے اپنی لونڈی کو بلوایا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر نبی ﷺ لونڈی کے ساتھ لپٹ گئے اور یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن تھا۔ جب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا واپس آئیں تو اپنے گھر لونڈی کو پایا، تو اس کے نکلنے کا انتظار کیا اور سخت غیرت کھائی، تو رسول اللہ ﷺ نے لونڈی کو نکالا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا گھر میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے کہا: میں نے آپ کو دیکھ لیا آپ جس کے ساتھ تھے۔ اللہ کی قسم! آپ نے مجھے ناراض کیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تجھے راضی کروں گا لیکن میرا راز پوشیدہ رکھنا، اس کی حفاظت کرنا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی اس لونڈی کو تیری رضا کے لیے اپنے اوپر حرام کر لیا ہے۔“ اور حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کی بیویوں میں سے ایک دوسرے کا تعاون کرتی تھیں، اکٹھی تھیں، تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ راز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کھول دیا کہ آپ خوش ہو جائیں کہ نبی ﷺ نے اپنی لونڈی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے۔ جب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے راز کی خبر دے دی تو اللہ رب العزت نے نبی ﷺ کے سامنے اس کا اظہار کر دیا۔ اللہ نے اپنے رسول پر یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی! آپ نے کیوں حرام قرار دی وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کر رکھی تھی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15075
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»