❮
❯
حدیث نمبر: 15047
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، أنا أَبُو سَعِيدٍ، نا الزَّعْفَرَانِيُّ، نا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً فَإِنْ قَضَتْ فَلَيْسَ لَهُ مِنْ أَمْرِهَا شَيْءٌ وَإِنْ لَمْ تَقْضِ فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَأَمْرُهَا إِلَيْهِ " كَذَا وَجَدْتُهُ وَفِي إِسْنَادِهِ خَلَلٌ وَقَدِ اتَّفَقَ قَوْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي التَّخْيِيرِ وَالتَّمْلِيكِ وَكَذَا قَوْلُ عُمَرَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِيهِمَا مُتَّفِقٌ، وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدِ اخْتَلَفَ قَوْلُهُ فِيهِمَا كَمَا رَوَيْنَا وَقَدْ رَوَى الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي اخْتَارِي وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ سَوَاءٌ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَكَأَنَّهُ عَلِمَ مِنْهُ قَوْلًا آخَرَ فِي إِحْدَى الْمَسْأَلَتَيْنِ يُوَافِقُ قَوْلَهُ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُخْرَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

حارث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو اپنا اختیار ایک مرتبہ سپرد کر دیتا ہے، اگر وہ کوئی فیصلہ کر دے تو خاوند کے پاس اس کے معاملے میں سے کچھ بھی (اختیار) باقی نہیں رہتا، اور اگر وہ فیصلہ نہ کرے تو یہ ایک طلاق ہے اور اس کا معاملہ خاوند کے سپرد ہو گا۔
اس کی سند میں خلل ہے۔
نوٹ: «التَّخْيِيرِ وَالتَّمْلِيكِ» میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ایک جیسا ہے، اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول بھی دونوں میں ایک جیسا ہے، جبکہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول ان دونوں میں مختلف ہے جیسا کہ ہم نے روایت کیا، ثوری، ابن ابی لیلیٰ سے اور وہ شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ «اخْتَارِي» اور «أَمْرُكِ بِيَدِكِ» حضرت علی، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم کے قول میں برابر ہیں، گویا کہ انہیں ان سے ان دو مسئلوں میں سے ایک میں کوئی دوسرا قول معلوم تھا جو دوسرے مسئلہ میں ان کے قول کے موافق ہے، واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15047
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»