حدیث نمبر: 15048
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي: " أَمْرُكِ بِيَدِكِ " أَنَّهُ ثَلَاثٌ؟ فَقَالَ: لَا إِلَّا شَيْءٌ حَدَّثَنَا بِهِ قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ " قَالَ أَيُّوبُ: فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: مَا حَدَّثْتُ بِهِ قَطُّ فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ فَقَالَ: بَلَى وَلَكِنْ قَدْ نُسِيَ كَثِيرٌ هَذَا لَمْ يَثْبُتْ مِنْ مَعْرِفَتِهِ مَا يُوجِبُ قَبُولَ رِوَايَتِهِ، وَقَوْلُ الْعَامَّةِ بِخِلَافِ رِوَايَتِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے پوچھا: کیا آپ کسی کو جانتے ہیں جو حضرت حسن کے قول کے موافق کہتا ہو کہ جب خاوند اپنا اختیار بیوی کے سپرد کر دے تو اسے تین طلاقیں ہو جاتی ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ لیکن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں کہ ایوب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کثیر آئے تو میں نے ان سے سوال کیا، وہ فرمانے لگے: میں نے بیان ہی نہیں کیا۔ جب میں نے قتادہ سے تذکرہ کیا تو وہ فرمانے لگے: بیان تو کیا تھا لیکن وہ بھول گئے۔
(٢٤) «بَابُ الْمَرْأَةِ تَقُولُ فِي التَّمْلِيكِ طَلَّقْتُكَ وَهِيَ تُرِيدُ الطَّلَاقَ»
”عورت تملیک کے موقع پر «طَلَّقْتُكَ» کہہ کر ایک طلاق کا ارادہ رکھتی ہے“
«قَدْ مَضَى حَدِيثُ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ فِي الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لِامْرَأَتِهِ: الَّذِي بِيَدِي مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِكِ قَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ طَلَّقْتُكَ ثَلَاثًا فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أُرَاهَا وَاحِدَةً وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَا وَسَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ»
”اسود اور علقمہ کی احادیث میں گزر گیا کہ وہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنا اختیار بیوی کو سونپ دیا، پھر بیوی نے تین طلاق کے بارے میں کہہ دیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: میرے خیال میں ایک طلاق ہوئی ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا بھی یہی خیال ہے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15048
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»