حدیث نمبر: 15046
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا مُطَرِّفٌ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ وَهَبَ امْرَأَتَهُ لِأَهْلِهَا فَقَالَ: " إِنْ قَبِلُوهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَإِنْ رَدُّوهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَمْلَكُ بِرَجْعَتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ

یحییٰ بن جزار سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں ایک شخص نے اپنی بیوی کو اس کے اہل کے سپرد کر دیا۔ فرماتے ہیں: اگر وہ قبول کر لیں تو یہ ایک جدا کر دینے والی طلاق ہے اور اگر رد کر دیں تب بھی ایک طلاق ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15046
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»