حدیث نمبر: 15045
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ حِكَايَةً عَنْ شَرِيكٍ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: اسْتَلْحِقِي بِأَهْلِكِ أَوْ وَهَبَهَا لِأَهْلِهَا فَقَبِلُوهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ

مسروق رحمہ اللہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ ”اپنے گھر والوں سے مل جاؤ“ یا اسے اس کے گھر والوں کو ہبہ کر دیتا ہے، اگر وہ اسے قبول کر لیں یا رد کر دیں تو یہ ایک طلاق ہے اور خاوند کو رجوع کا زیادہ حق ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15045
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»