السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في التمليك باب: تملیک (عورت کو طلاق کا مالک بنا دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15044
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنْ قَبِلُوهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِنْ لَمْ يَقْبَلُوهَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ فِي الرَّجُلِ يَهَبُ امْرَأَتَهُ لِأَهْلِهَا ".حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں: اگر وہ قبول کر لیں تو یہ ایک طلاق ہے اور مرد بیوی کا زیادہ حق دار ہے، اگر وہ قبول نہ کریں تو مرد کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے جب وہ بیوی کو اس کے اہل کے سپرد کر دیتا ہے۔