السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في التمليك باب: تملیک (عورت کو طلاق کا مالک بنا دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15043
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُمَا سُئِلَا عَنِ الرَّجُلِ يُمَلِّكُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَتَرُدُّ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَلَا تَقْضِي فِيهِ شَيْئًا فَقَالَا: " لَيْسَ ذَلِكَ بِطَلَاقٍ ".حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے جس نے اپنا اختیار بیوی کے سپرد کر دیا کے بارے میں پوچھا، لیکن بیوی نے اختیار استعمال کیے بغیر خاوند کو واپس کر دیا تو دونوں فرماتے ہیں: یہ طلاق نہیں ہے۔