السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في التمليك باب: تملیک (عورت کو طلاق کا مالک بنا دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15042
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَالْقَضَاءُ مَا قَضَتْ إِلَّا أَنْ يُنَاكِرَهَا الرَّجُلُ فَيَقُولُ: لَمْ أُرِدْ إِلَّا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَيَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ وَيَكُونُ أَمْلَكُ بِهَا مَا كَانَتْ فِي عِدَّتِهَا ".حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو اپنا اختیار سونپ دیتا ہے تو جو بیوی فیصلہ کرے وہی ہوگا، لیکن اگر خاوند انکار کرے، وہ کہتا ہے کہ میں نے صرف ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا اور وہ قسم اٹھائے، تو عورت جب تک عدت میں ہے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔