حدیث نمبر: 15039
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: " مَلَّكْتُ امْرَأَتِي أَمْرَهَا فَفَارَقَتْنِي "، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالَ: الْقَدَرُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: " ارْتَجِعْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّمَا هِيَ وَاحِدَةٌ، وَأَنْتَ أَمْلَكُ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ

خارجہ بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف فرما تھے تو ان کے پاس محمد بن عتیق روتے ہوئے آئے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیری کیا حالت ہے؟ تو وہ کہنے لگے: میں نے اپنے اختیار کا مالک اپنی بیوی کو بنا دیا تو اس نے مجھے جدا کر دیا، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تجھے اس پر کس چیز نے ابھارا؟ کہنے لگے: تقدیر نے، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر چاہو تو رجوع کر لو، یہ ایک طلاق ہے، آپ عورت کے مالک ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15039
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك»