السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في التمليك باب: تملیک (عورت کو طلاق کا مالک بنا دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15040
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّ رَجُلًا جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا ثَلَاثًا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " هِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ".حافظ ثناء اللہ
ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنا اختیار بیوی کو دے دیا، تو اس نے تین طلاقیں دے دیں، معاملہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: یہ ایک طلاق ہے اور مرد عورت کا زیادہ حق دار ہے۔