حدیث نمبر: 15038
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ، وَعَلْقَمَةُ قَالَا: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَتْ: لَوْ أَنَّ الَّذِيَ بِيَدِكَ مِنْ أَمْرِي بِيَدِي لَعَلِمْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ الَّذِيَ بِيَدِي مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِكِ، قَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ طَلَّقْتُكَ ثَلَاثًا قَالَ عَبْدُ اللهِ: " أَرَاهَا وَاحِدَةً وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَا " وَسَأَلْقَى أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ، فَأَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ: فَلَقِيَهُ فَسَأَلَهُ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَعَلَ اللهُ بِالرِّجَالِ يَعْمِدُونَ إِلَى مَا جَعَلَ اللهُ بِأَيْدِيهِمْ فَيَجْعَلُونَهُ بِأَيْدِي النِّسَاءِ بِفِيهَا التُّرَابَ بِفِيهَا التُّرَابَ، فَمَا قُلْتَ "، قَالَ: قُلْتُ: " أَرَاهَا وَاحِدَةً وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا "، قَالَ: " وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ وَلَوْ قُلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ لَرَأَيْتُ أَنَّكَ لَمْ تُصِبْ ".
حافظ ثناء اللہ

ابراہیم رحمہ اللہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ اور اسود رحمہ اللہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے اور بیوی کے درمیان کچھ جھگڑا تھا جیسے لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں، پھر اس عورت نے کہا: جو اختیار تیرے ہاتھ میں ہے اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو جانتا کہ میں کیا کرتی ہوں، تو خاوند نے اپنا اختیار بیوی کو دے دیا۔ بیوی نے تین طلاقیں دے لیں، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے خیال میں یہ ایک طلاق ہے اور تو اس کا زیادہ حق دار ہے، عنقریب میں امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملوں گا اور ان سے اس بارے میں سوال کروں گا، پھر ان سے مل کر قصہ بیان کر کے پوچھا تو وہ فرمانے لگے: جو اختیار اللہ تعالیٰ نے مردوں کے سپرد کیا ہے وہ اپنی عورتوں کو دے دیتے ہیں، «بِفِيهِ التُّرَابُ» ”ان کے منہ میں مٹی ہو“، «بِفِيهِ التُّرَابُ» ”ان کے منہ میں مٹی ہو“، تو نے کیا کہا؟ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ یہ ایک طلاق ہے اور خاوند عورت کا زیادہ حق دار ہے، فرمایا: میرا بھی یہی خیال ہے، اگر آپ اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ کرتے تو میں خیال کرتا کہ آپ نے صحیح فیصلہ نہیں کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15038
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»