السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في التمليك باب: تملیک (عورت کو طلاق کا مالک بنا دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15037
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَيَعْلَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَوْ أَنَّ الْأَمْرَ الَّذِي بِيَدِكَ بِيَدِي لَطَلَّقْتُكَ قَالَ: قَدْ جَعَلْتُ ⦗٥٦٩⦘ الْأَمْرَ إِلَيْكِ فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا ثَلَاثًا فَسَأَلَ عُمَرُ وَعَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ ذَلِكَ قَالَ: " هِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا "، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
ابراہیم، مسروق رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: ”اگر جو اختیار تیرے ہاتھ میں ہے میرے ہاتھ ہو تو میں تجھے طلاق دے دوں“ تو خاوند نے بیوی کو اختیار دے دیا، تو اس نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: ”یہ ایک طلاق ہے اور خاوند اس عورت کا زیادہ حق دار ہے“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”میرا بھی یہی خیال تھا۔“
(ب) علقمہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ طلاقِ بائن نہیں ہے بلکہ خلع یا ایلا ہے۔