السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، نا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: مَكَثْتُ عِشْرِينَ سَنَةً يُحَدِّثُنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُهُمْ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا وَهِيَ حَائِضٌ فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَجَعَلْتُ لَا أَتَّهِمُهُمْ وَلَا أَعْرِفُ الْحَدِيثَ حَتَّى لَقِيتُ أَبَا غَلَّابٍ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ وَكَانَ ذَا ثَبْتٍ فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا "، قَالَ: فَقُلْتُ أَفَحُسِبَتْ عَلَيْهِ؟ قَالَ: " فَمَهْ وَإِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ.ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں 20 سال ٹھہرا رہا، مجھے وہ لوگ بیان کرتے رہے جن پر میں تہمت نہیں لگاتا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں تین طلاقیں دے دیں تو انہیں رجوع کا حکم دیا گیا۔ میں ان پر تہمت بھی نہیں لگاتا تھا اور اس حدیث کو پہچانتا بھی نہیں تھا، یہاں تک کہ میری ملاقات ابوغلاب یونس بن جبیر سے ہوئی جو ثقہ تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں ایک طلاق دی تھی تو انہیں رجوع کا حکم دیا گیا۔ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ کیا اس کو طلاق شمار کیا گیا؟ فرمایا: تو اور کیا، اگرچہ وہ عاجز رہا اور بیوقوفی کر بیٹھا۔