حدیث نمبر: 14953
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ، نا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ فَطَلَّقَ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ: " لَا حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ يَحْيَى، وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَيْضًا بِحَدِيثِ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ وَفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَقَدْ ذَكَرْنَاهُمَا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا قاسم رحمہ اللہ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے تین طلاقیں دے دیں، تو اس عورت نے شادی کی، تو دوسرے خاوند نے طلاق دے دی۔ نبی ﷺ سے سوال کیا گیا: کیا یہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ تو اس کا ذائقہ چکھے جیسا کہ پہلے نے چکھا تھا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14953
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»