السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ، نا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ، أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنِ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا بِتَطْلِيقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقُرْئَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗٥٤٧⦘ فَقَالَ: " يَا ابْنَ عُمَرَ مَا هَكَذَا أَمَرَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِنَّكَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرَ فَتُطَلِّقَ لِكُلِّ قُرْءٍ " قَالَ: فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعْتُهَا ثُمَّ قَالَ لِي: " إِذَا هِيَ طَهُرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ أَوْ أَمْسِكْ " فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا كَانَ يَحِلُّ لِي أَنْ أُرَاجِعَهَا؟ قَالَ: " لَا كَانَتْ تَبِينُ مِنْكَ وَتَكُونُ مَعْصِيَةً ".سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی اور باقی دو طلاقوں کو دینے کا بھی ارادہ کر لیا تو نبی ﷺ کو پتا چلا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن عمر! کیا اس طرح اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے؟ آپ نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور سنت طریقہ یہ ہے کہ آپ ہر طہر میں طلاق دیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مجھے رجوع کرنے کا حکم دیا، پھر مجھے فرمایا: ”جب یہ پاک ہو جائے تو اس وقت طلاق دے دینا یا روک لینا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا کیا خیال ہے کہ میں اس کو تین طلاقیں دے دوں، کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں اس سے رجوع کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، وہ تجھ سے جدا ہو جائے گی اور تو نے نافرمانی کی ہے۔“