حدیث نمبر: 14952
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، نا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ ⦗٥٤٦⦘ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَى، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَسْمَعُ إِلَى مَا تَهْجُرُ بِهِ هَذِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ

عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں رفاعہ قرظی کے نکاح میں تھی تو اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں، تو اس کے بعد میں نے عبدالرحمن بن زبیر کے ساتھ شادی کی اور اس کے ساتھ (معاملہ) کپڑے کی جھالر کی مانند ہے۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”تو رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے؟“ عرض کیا: ہاں۔ فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ تو اس کا ذائقہ چکھے اور وہ تیرا ذائقہ چکھے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس تھے اور خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے اجازت کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے آواز دی: اے ابوبکر! سن رہے ہو یہ کس بات کا اظہار نبی ﷺ کے پاس کر رہی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14952
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»