السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ وَإِنْ طَلَّقَهَا أَلْفَ مَرَّةٍ فَعَمَدَ رَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ لَهُ فَطَلَّقَهَا ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا شَارَفَتِ انْقِضَاءَ عِدَّتِهَا ارْتَجَعَهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا وَقَالَ: وَاللهِ لَا أُؤْوِيكِ إِلِيَّ وَلَا تَخْلِينَ أَبَدًا، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الطَّلَاقَ جَدِيدًا مِنْ يَوْمِئِذٍ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ طَلَّقَ أَوْ لَمْ يُطَلِّقْ " هَذَا مُرْسَلٌ وَهُوَ الصَّحِيحُ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ.ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دیتا، پھر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لیتا تو یہ اسی کی ہوتی، اگرچہ ہزار طلاقیں بھی دے دے۔ تو ایک شخص نے اپنی بیوی کا قصد کر کے اسے طلاق دے دی، پھر مہلت دی، جب عدت ختم ہونے کے قریب ہوئی تو رجوع کر کے پھر طلاق دے دی اور اس نے کہا: نہ تو اپنے پاس رکھوں گا اور نہ ہی تجھے چھوڑوں گا؛ تو اللہ رب العزت نے فرمایا: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] تو لوگوں نے اس دن سے نئے سر سے طلاق دینا شروع کی، جس نے طلاق دی تھی یا نہ دی تھی۔
یہ روایت مرسل ہے اور یہی صحیح ہے، امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ نے یہی کہا ہے۔