حدیث نمبر: 14950
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: 229] وَقَالَ: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]⦗545⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَالْقُرْآنُ وَاللهُ أَعْلَمُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ مَنْ طَلَّقَ زَوْجَةً لَهُ دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا ثَلَاثًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ.
حافظ ثناء اللہ

اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ ”طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے، پھر یا تو دستور کے مطابق روک لینا ہے یا اچھے طریقے سے رخصت کر دینا ہے۔“ [سورة البقرة: 229]
اور فرمایا: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“ [سورة البقرة: 230]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس قرآن، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، خواہ اس سے دخول کر چکا ہو یا نہ کیا ہو، تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، نا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ الْمَكِّيُّ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ الرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ مَا شَاءَ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَإِنْ طَلَّقَهَا مِائَةً أَوْ أَكْثَرَ إِذَا ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا حَتَّى قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: وَاللهِ لَا أُطَلِّقُكِ فَتَبِينِي مِنِّي، وَلَا أُؤْوِيكِ إِلِيَّ، قَالَتْ: وَكَيْفَ ذَاكَ، قَالَ: أُطَلِّقُكِ فَكُلَّمَا هَمَّتْ عِدَّتُكِ أَنْ تَنْقَضِيَ ارْتَجَعْتُكِ ثُمَّ أُطَلِّقُكِ وَأَفْعَلُ هَكَذَا فَشَكَتِ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] فَاسْتَأْنَفَ النَّاسُ الطَّلَاقَ مَنْ شَاءَ طَلَّقَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُطَلِّقْ " وَرَوَاهُ أَيْضًا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَالْحُمَيْدِيُّ عَنْ يَعْلَى بْنِ شَبِيبٍ وَكَذَلِكَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ بِمَعْنَاهُ وَرُوِيَ نُزُولُ الْآيَةِ فِيهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مرد اپنی عورت کو جب چاہتا طلاق دے دیتا، اگرچہ سو یا اس سے زیادہ ہوتیں۔ جب عدت گزرنے سے پہلے بیوی کو واپس لاتا تو اپنی بیوی سے کہہ دیتا: نہ تو طلاق دے کر تجھے اپنے سے دور کروں گا اور نہ ہی اپنے پاس جگہ دوں گا۔ اس عورت نے کہا: وہ کیسے؟ کہتا: میں تجھے طلاق دوں گا جب تیری عدت ختم ہونے کے قریب ہوگی، پھر میں تجھ سے رجوع کر لوں گا پھر میں تجھے طلاق دوں گا اور اس طرح کرتا رہوں گا۔ اس عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس شکایت کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے پاس اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ خاموش ہو گئے، کچھ نہیں فرمایا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] تو لوگوں نے نئے سر سے طلاق دینا شروع کی، جو چاہے طلاق دے دے جو چاہے طلاق نہ دے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14950
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»