السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الاختيار للزوج أن لا يطلق إلا واحدة باب: شوہر کے لیے اس بات کو پسند کرنے کا بیان کہ وہ صرف ایک ہی طلاق دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا حُمَيْدٌ عَنْ وَاقِعِ بْنِ سَحْبَانَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ قَالَ: " أَثِمَ بِرَبِّهِ وَحَرُمَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ " قَالَ: فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ عَيْبَهُ فَقَالَ: أَلَا تَرَى أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ: كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَكْثَرَ اللهُ فِينَا مِثْلَ أَبِي نُجَيْدٍ.حمید بن واقع بن سحبان فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا جس وقت وہ مسجد میں تھے۔ اس شخص نے کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی ہے۔ پھر اس آدمی نے جا کر سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس اس کا ذکر کیا۔ وہ اس پر عیب نکالنے کا ارادہ رکھتا تھا اور کہنے لگا: آپ کا کیا خیال ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما اس طرح کہتے ہیں؟ تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ رب العزت ابونجید رضی اللہ عنہما جیسے شخص ہم میں زیادہ کر دے۔