السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: مباشرة الحائض فيما فوق الإزار وما يحل منها وما يحرم باب: تہبند کے اوپر سے حائضہ کے ساتھ مباشرت (جسمانی ملاپ) کرنے اور اس سے حلال اور حرام ہونے والے امور کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُكِ وَأَنْتِ حَائِضٌ؟ قَالَتْ: وَأَنَا عَارِكٌ كَانَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اتَّزِرِي بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ " ثُمَّ يُبَاشِرُنِي لَيْلًا طَوِيلًا قُلْتُ: أَكَانَ يَأْكُلُ مَعَكِ وَأَنْتِ حَائِضٌ؟ قَالَتْ: إِنْ كَانَ لَيُنَاوِلُنِي الْعَرْقَ فَأَعَضُّ مِنْهُ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ مِنِّي فَيَعَضُّ مَكَانَ الَّذِي عَضَضْتُ مِنْهُ قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْ شَرَابِكِ؟ قَالَتْ: كَانَ يُنَاوِلُنِي الْإِنَاءَ فَأَشْرَبُ مِنْهُ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ فَيَضَعُ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فِيَّ فَيَشْرَبُ ".مقدام بن شریح اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا رسول اللہ ﷺ آپ سے مباشرت کرتے تھے جب آپ حائضہ ہوتی تھیں؟ انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوتی تو رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ”ابوبکر کی بیٹی! اپنا لنگوٹ باندھ لے۔“ پھر لمبی رات مجھ سے مباشرت کرتے رہتے۔ میں نے کہا: کیا آپ ﷺ آپ کے ساتھ کھاتے تھے جب آپ حائضہ ہوتی تھیں؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ مجھے ہڈی دیتے، میں اس سے چوستی، پھر آپ ﷺ اس کو پکڑتے تو آپ اس جگہ سے چوستے تھے جہاں سے میں نے چوسا ہوتا تھا۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ آپ کے پیے ہوئے میں سے پیتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ مجھ کو برتن دیتے، میں پیتی، پھر آپ اسے پکڑ لیتے اور اسی جگہ پر منہ رکھتے تھے جہاں میں نے منہ رکھا ہوتا تھا، پھر آپ ﷺ پیتے۔