السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: مباشرة الحائض فيما فوق الإزار وما يحل منها وما يحرم باب: تہبند کے اوپر سے حائضہ کے ساتھ مباشرت (جسمانی ملاپ) کرنے اور اس سے حلال اور حرام ہونے والے امور کا بیان
حدیث نمبر: 1494
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِهِ أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ فَانْسَلَلْتُ فَقَالَ: " مَا شَأْنُكِ؟ " فَقُلْتُ: حِضْتُ فَقَالَ: " شُدِّي عَلَيْكِ إِزَارَكِ، ثُمَّ ادْخُلِي " وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَائِشَةَ مُرْسَلًا وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ وَقَعَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ جَمِيعًا.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک لحاف میں تھی، میں کھسک گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا ہوا؟“ میں نے کہا: میں حیض والی ہو گئی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا لنگوٹ باندھ، پھر میرے پاس آ جا۔“ (ب) امام مالک نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرسل روایت نقل کی ہے۔
(ج) اس بات کا بھی احتمال ہے کہ سیدہ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا ہو۔