السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الاختيار للزوج أن لا يطلق إلا واحدة باب: شوہر کے لیے اس بات کو پسند کرنے کا بیان کہ وہ صرف ایک ہی طلاق دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، نا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، نا سَلَمَةُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ أَنَّ الطَّلَاقَ الثَّلَاثَ بِمَرَّةٍ مَكْرُوهٌ، فَقَالَ " طَلَّقَ حَفْصُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْمُغِيرَةِ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلَاثًا فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِ، وَطَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَحَدٌ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ. وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي ذَلِكَ أَيْضًا بِمَا رَوَاهُ بِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِيمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا لَا يَنْكِحُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، قَالَ وَمَا عَابَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَيْهِ أَنْ يُطَلِّقَ ثَلَاثًا وَلَمْ يَقُلْ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: بِئْسَ مَا صَنَعْتَ حِينَ طَلَّقْتَ ثَلَاثًا، قَالَ الشَّيْخُ: وَتِلْكَ الْآثَارُ تَرِدُ بَعْدَ هَذَا إِنْ شَاءَ اللهُ.سلمہ بن ابی سلمہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ذکر ہوا کہ تین طلاقیں ایک ہی مرتبہ دینا مکروہ ہے، فرماتے ہیں: حفص بن عمرو بن مغیرہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو ایک ہی مرتبہ تین طلاقیں دیں، ہمیں معلوم نہیں کہ نبی ﷺ نے اس پر عیب لگایا ہو اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا۔
نوٹ: سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: جس نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دیں تو وہ دوبارہ اتنی دیر نکاح نہیں کر سکتا، جب تک دوسرا اس سے نکاح کر کے طلاق نہ دے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے اکٹھے تین طلاقیں دینے پر اعتراض نہیں کیا اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے نہیں فرمایا کہ تم نے تین طلاقیں دے کر برا کام کیا ہے۔