السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الاختيار للزوج أن لا يطلق إلا واحدة باب: شوہر کے لیے اس بات کو پسند کرنے کا بیان کہ وہ صرف ایک ہی طلاق دے۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، نا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ حَدَّثَهُ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقُرْئَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا ابْنَ عُمَرَ مَا هَكَذَا أَمَرَكَ اللهُ إِنَّكَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرَ فَتُطَلِّقَ لِكُلِّ قُرْءٍ " قَالَ: فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعْتُهَا ثُمَّ قَالَ: " إِذَا طَهُرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ أَوْ أَمْسِكْ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا كَانَ يَحِلُّ لِي أَنْ أُرَاجِعَهَا؟ قَالَ: " كَانَتْ تَبِينُ مِنْكَ وَتَكُونُ مَعْصِيَةً " هَذِهِ الزِّيَادَاتُ الَّتِي أُتِيَ بِهَا عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ لَيْسَتْ فِي رِوَايَةِ غَيْرِهِ، وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ، ⦗٥٤١⦘ وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ: " وَتَكُونُ مَعْصِيَةً " رَاجِعًا إِلَى إِيقَاعِ مَا كَانَ يُوقِعُهُ مِنَ الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ فِي حَالِ الْحَيْضِ وَاللهُ أَعْلَمُ.حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں ایک طلاق دے دی، پھر باقی دو طلاقیں دو حیضوں میں دینے کا ارادہ کیا، بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تجھے اس طرح حکم نہیں دیا، تو نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے۔ سنت طریقہ یہ ہے کہ تو ایک طہر میں طلاق دے۔“ فرماتے ہیں: مجھے نبی ﷺ نے رجوع کا حکم دیا اور فرمایا: ”جب وہ پاک ہو جائے تو طلاق دو یا روک لو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں نے اس کو تین طلاقیں دے دیں تو کیا میرے لیے رجوع کرنا جائز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ آپ سے جدا ہو جائے گی اور یہ نافرمانی ہے۔“
یہ زیادتی عطاء خراسانی کی روایت میں آتی ہے، کسی دوسرے کی روایت میں نہیں اور انہوں نے اس بارے میں کلام بھی کیا ہے اور اس کا قول اس کے مشابہ ہے کہ جس طرح حالتِ حیض میں دی گئی طلاق سے رجوع ہے تو اس طرح ایک ہی مرتبہ دی جانے والی تین طلاقیں بھی ہو جاتی ہیں۔