السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الاختيار للزوج أن لا يطلق إلا واحدة باب: شوہر کے لیے اس بات کو پسند کرنے کا بیان کہ وہ صرف ایک ہی طلاق دے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَخْرَمِ نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، نا مُسَدَّدٌ، نا يَحْيَى، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ آخَرُ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ: " لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَطَلَّقَ رُكَانَةُ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ وَهِيَ تَحْتَمِلُ وَاحِدَةً وَتَحْتَمِلُ الثَّلَاثَ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِيَّتِهِ وَأَحْلَفَهُ عَلَيْهَا، وَلَمْ نَعْلَمْهُ نَهَى أَنْ يُطَلِّقَ الْبَتَّةَ يُرِيدُ بِهَا ثَلَاثًا، وَطَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا.قاسم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، تو اس عورت سے کسی دوسرے شخص نے نکاح کرنے کے بعد مجامعت سے پہلے طلاق دے دی، تو نبی ﷺ سے پوچھا گیا: کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ دوسرا خاوند اس سے مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے چکھا ہے۔“
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دی تو اس سے ایک یا تین طلاقوں کا احتمال ہو سکتا ہے، تو نبی ﷺ نے ان کی نیت کے بارے میں سوال کیا اور قسم لی، اور ہمیں معلوم نہیں کہ آپ ﷺ نے تین طلاقوں سے منع کیا ہو، اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔