السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما لا يجوز للمرأة أن تتزين به باب: ان چیزوں کا بیان جن کے ساتھ عورت کا زیب و زینت کرنا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 14834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ " تَفْسِيرُ الْوَاصِلَةِ الَّتِي تَصِلُ الشَّعْرَ بِشَعْرِ النِّسَاءِ، وَالْمُسْتَوْصِلَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا، وَالنَّامِصَةُ الَّتِي تَنْقُشُ الْحَاجِبَ حَتَّى تُرِقَّهُ، وَالْمُتَنَمِّصَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا، وَالْوَاشِمَةُ الَّتِي تَجْعَلُ الْخِيلَانَ فِي وَجْهِهَا بِكُحْلٍ أَوْ مِدَادٍ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا " قَالَ الْفَرَّاءُ: " النَّامِصَةُ الَّتِي تَنْتِفُ الشَّعْرَ مِنَ الْوَجْهِ وَمِنْهُ قِيلَ لِلْمِنْقَاشِ الْمِنْمَاصِ لِأَنَّهُ يُنْتَفُ بِهِ ".حافظ ثناء اللہ
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «الْوَاصِلَةُ» ”وہ عورت ہے جو عورتوں کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال ملاتی ہے“، «الْمُسْتَوْصِلَةُ» ”بال لگوانے والی“، «النَّامِصَةُ» ”بھنوؤں کو باریک کرنے والی“ اور «الْمُتَنَمِّصَةُ» ”بھنوؤں کے بال باریک کروانے والی“ ہے۔ «الْوَاشِمَةُ» ”ایسی عورت جو چہرے کے تل سرمہ یا سیاہی سے بھرے“ اور «الْمُسْتَوْشِمَةُ» ”تل بھروانے والی“ ہے۔
فراء رحمہ اللہ کہتے ہیں: «النَّامِصَةُ» ”چہرہ سے بال اکھیڑنے والی ہے“ اور «الْمِنْمَاصُ» ”جس کے ذریعے وہ بال اکھیڑتی ہے“۔