السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما لا يجوز للمرأة أن تتزين به باب: ان چیزوں کا بیان جن کے ساتھ عورت کا زیب و زینت کرنا جائز نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا جَرِيرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَعَنَ اللهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ " فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللهِ فَقَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ ⦗٥١٠⦘ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ٧] قَالَتْ: فَإِنِّي رَأَيْتُ شَيْئًا مِنْ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ، قَالَ: فَاذْهَبِي فَانْظُرِي فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَمَا لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ تُجَامِعْنَا لَفْظُ حَدِيثِ إِسْحَاقَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سرمہ بھرنے والیوں اور بھروانے والیوں، بھنوؤں اور رخسار کے بال اکھیڑنے والیوں اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کو باریک بنانے والیوں اور اللہ کی تخلیق کو بدلنے والیوں پر اللہ کی لعنت ہے“ تو بنو اسد قبیلے کی ایک عورت کو یہ خبر ملی جس کو ام یعقوب کہا جاتا تھا اور وہ قرآن کی تلاوت کرتی تھی۔ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے آپ کی طرف سے ایک حدیث پہنچی ہے کہ آپ سرمہ بھرنے والیوں اور بھروانے والیوں اور بھنوؤں کو اکھیڑنے والیوں اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کو باریک بنانے والیوں اور اللہ کی تخلیق کو بدلنے والیوں پر لعنت کرتے ہیں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں کیوں نہ اس پر لعنت کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ کی کتاب میں لعنت کی گئی ہے۔ اس عورت نے کہا: میں نے دونوں تختیوں کے درمیان، یعنی پورے قرآن مجید کی تلاوت کی ہے مجھے اس میں وہ بات نہیں ملی جو آپ کہہ رہے ہیں تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے وضاحت فرمائی: اگر تو نے قرآن مجید کی تلاوت کی ہوتی تو اس میں اس حکم کو پالیتی کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] ”جو رسول تمہیں دے دیں لے لو اور جس سے منع کر دیں رک جاؤ۔“ اس عورت نے جواب دیا کہ میں نے یہ اشیاء آپ کی عورت پر دیکھی ہیں تو کہنے لگے: جاؤ جا کر دیکھو تو اس نے جا کر دیکھا تو کچھ بھی نہ پایا۔ کہنے لگی: میں نے کچھ نہیں دیکھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر وہ ایسی ہوتی تو ہم کبھی اس سے جماع ہی نہ کرتے۔