السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: الحائض لا توطأ حتى تطهر وتغتسل باب: حائضہ سے صحبت نہیں کی جائے گی یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے اور غسل کر لے اس کا بیان
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ} [البقرة: 222] وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقِيلَ وَاللهُ أَعْلَمُ يَطْهُرْنَ مِنَ الْمَحِيضِ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ بِالْمَاءِ.اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ﴾ ”اور تم ان کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، پھر جب وہ پاکیزگی حاصل کر لیں تو ان کے پاس وہاں سے آؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔“ [سورة البقرة: 222]
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کہا گیا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ (يَطْهُرْنَ سے مراد ہے کہ) وہ حیض سے پاک ہو جائیں، پس جب وہ پانی سے طہارت حاصل کر لیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {اعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} يَقُولُ: " اعْتَزِلُوا نِكَاحَ فُرُوجِهِنَّ {وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ} [البقرة: ٢٢٢] يَقُولُ: إِذَا تَطَهَّرْنَ مِنَ الدَّمِ وَتَطَهَّرْنَ بِالْمَاءِ {فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ} [البقرة: ٢٢٢] يَقُولُ: فِي الْفَرْجِ وَلَا تَعَدَّوْا إِلَى غَيْرِهِ فَمَنْ فَعَلَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَقَدِ اعْتَدَى ".سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ [سورة البقرة: 222] کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کی شرمگاہوں میں جماع کرنے سے الگ رہو۔ اور ﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾ [سورة البقرة: 222] کے بارے میں فرماتے ہیں: جب وہ خون سے پاک ہو جائیں اور پانی سے خوب طہارت حاصل کر لیں۔ پھر ﴿فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ﴾ [سورة البقرة: 222] کے متعلق کہتے ہیں: شرمگاہ میں اور اس کے علاوہ کی طرف تجاوز نہ کرو، جس نے (اس کے علاوہ) کچھ کیا اس نے حد سے تجاوز کیا۔