کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حائضہ سے صحبت نہیں کی جائے گی یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے اور غسل کر لے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1481
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ} [البقرة: 222] وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقِيلَ وَاللهُ أَعْلَمُ يَطْهُرْنَ مِنَ الْمَحِيضِ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ بِالْمَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ﴾ ”اور تم ان کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، پھر جب وہ پاکیزگی حاصل کر لیں تو ان کے پاس وہاں سے آؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔“ [سورة البقرة: 222]
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کہا گیا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ (يَطْهُرْنَ سے مراد ہے کہ) وہ حیض سے پاک ہو جائیں، پس جب وہ پانی سے طہارت حاصل کر لیں۔“
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کہا گیا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ (يَطْهُرْنَ سے مراد ہے کہ) وہ حیض سے پاک ہو جائیں، پس جب وہ پانی سے طہارت حاصل کر لیں۔“
حدیث نمبر: 1481
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {اعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} يَقُولُ: " اعْتَزِلُوا نِكَاحَ فُرُوجِهِنَّ {وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ} [البقرة: ٢٢٢] يَقُولُ: إِذَا تَطَهَّرْنَ مِنَ الدَّمِ وَتَطَهَّرْنَ بِالْمَاءِ {فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ} [البقرة: ٢٢٢] يَقُولُ: فِي الْفَرْجِ وَلَا تَعَدَّوْا إِلَى غَيْرِهِ فَمَنْ فَعَلَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَقَدِ اعْتَدَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ [سورة البقرة: 222] کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کی شرمگاہوں میں جماع کرنے سے الگ رہو۔ اور ﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾ [سورة البقرة: 222] کے بارے میں فرماتے ہیں: جب وہ خون سے پاک ہو جائیں اور پانی سے خوب طہارت حاصل کر لیں۔ پھر ﴿فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ﴾ [سورة البقرة: 222] کے متعلق کہتے ہیں: شرمگاہ میں اور اس کے علاوہ کی طرف تجاوز نہ کرو، جس نے (اس کے علاوہ) کچھ کیا اس نے حد سے تجاوز کیا۔
حدیث نمبر: 1482
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ} [البقرة: ٢٢٢] حَتَّى يَنْقَطِعَ الدَّمُ {فَإِذَا تَطَهَّرْنَ} [البقرة: ٢٢٢] قَالَ: يَقُولُ: إِذَا اغْتَسَلْنَ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾ [سورة البقرة: 222] کے متعلق فرماتے ہیں: جب تک خون ختم نہ ہو جائے، اور ﴿فَإِذَا تَطَهَّرْنَ﴾ [سورة البقرة: 222] کے متعلق کہتے ہیں کہ جب وہ غسل کر لیں۔
حدیث نمبر: 1483
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي الْحَائِضِ إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الدَّمِ قَالَ: " لَا يَأْتِيهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ حیض کے متعلق فرماتے ہیں جب وہ خون سے پاک ہو جائیں، اور اس کا خاوند اس کے پاس نہ آئے جب تک وہ غسل نہ کر لے۔
حدیث نمبر: 1484
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أنا سَالِمٌ، أَنَّهُ سَمِعَ الْحَسَنَ، يَقُولُ: " لَا بَأْسَ أَنْ يَغْشَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَلَيْسَ بِحَضْرَتِهِ مَاءٌ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا فِي سَفَرٍ إِذَا تَيَمَّمَتْ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم رحمہ اللہ نے حسن رحمہ اللہ سے سنا کہ کوئی حرج نہیں ہے جب خاوند اپنی بیوی کو ڈھانپ لے (یعنی جماع کرے) اور پانی موجود نہ ہو اور وہ سفر میں ہوں اور عورت حیض سے پاک ہو جائے جب کہ اس نے صرف تیمم کیا ہو۔
حدیث نمبر: 1485
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَالِمٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، أَنَّهُمَا سُئِلَا عَنِ الْحَائِضِ، أَيُصِيبُهَا زَوْجُهَا إِذَا رَأَتِ الطُّهْرَ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ؟ فَقَالَا: " لَا، حَتَّى تَغْتَسِلَ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ ان دونوں سے حائضہ کے متعلق سوال کیا گیا: کیا اس کا خاوند جماع کر سکتا ہے جب پاکی کو دیکھے غسل کرنے سے پہلے؟ انہوں نے کہا: نہیں جب تک غسل نہ کر لے۔
حدیث نمبر: 1486
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ح. قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَكُونُ فِي الرَّمْلِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ خَمْسَةَ أَشْهُرٍ فَتَكُونُ فِينَا النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ فَمَا تَرَى قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِالصَّعِيدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ریتلے علاقے میں چار ماہ یا پانچ ماہ ہوتے ہیں اور ہمارے اندر نفاس والی، حائضہ اور جنبی بھی ہوتے ہیں، آپ ان کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مٹی کو لازم پکڑو (یعنی تیمم کرلو)۔“