السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحكمين في الشقاق بين الزوجين باب: میاں بیوی کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہونے پر دو ثالث مقرر کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ سَمِعَهُ يَقُولُ: تَزَوَّجَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاطِمَةَ بِنْتَ عُتْبَةَ فَقَالَتْ: اصْبِرْ لِي وَأُنْفِقْ عَلَيْكَ فَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا، قَالَتْ: أَيْنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَأَيْنَ شَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، فَقَالَ عَلَى يَسَارِكِ فِي النَّارِ إِذَا دَخَلْتِ، فَشَدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا فَجَاءَتْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ فَأَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَأُفَرِّقَنَّ بَيْنَهُمَا وَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا كُنْتُ لِأُفَرِّقَ بَيْنَ شَيْخَيْنِ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ قَالَ: فَأَتَاهُمَا فَوَجَدَهُمَا قَدْ شَدَّا عَلَيْهِمَا أَثْوَابَهُمَا وَأَصْلَحَا أَمْرَهُمَا " وَرَوَى عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بُعِثْتُ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ حَكَمَيْنِ فَقِيلَ لَنَا: إِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تُفَرِّقَا فَرَّقْتُمَا، وَإِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تَجْمَعَا جَمَعْتُمَا.ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ بنت عتبہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو وہ کہنے لگی: ٹھہریے، میں تیرے اوپر کچھ خرچ کروں گی۔ جب وہ ان پر داخل ہوئے تو اس نے کہا کہ عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کہاں ہوں گے؟ فرمانے لگے: جب تو جہنم میں داخل ہو گی تو وہ تیرے بائیں جانب ہوں گے، تو اس نے اپنے کپڑے مضبوطی سے باندھ لیے۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آئے تو اس نے ان کے سامنے تذکرہ کیا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کو فیصل بنا دیا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: میں ان کے درمیان جدائی کروا دوں گا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں عبد مناف کے دو شیخوں کے درمیان جدائی نہ کرواؤں گا۔ جب وہ دونوں ان کے پاس آئے تو انہوں نے اپنے کپڑے مضبوطی سے باندھے ہوئے تھے تو انہوں نے صلح کروا دی۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما فیصل تھے، ہمیں کہا گیا کہ اگر جدائی مناسب ہو یا اکٹھا کرنا تو وہی فیصلہ کر دینا۔