السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحكمين في الشقاق بين الزوجين باب: میاں بیوی کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہونے پر دو ثالث مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14787
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " إِنِ اجْتَمَعَ رَأْيُهُمَا عَلَى أَنْ يُفَرِّقَا أَوْ يَجْمَعَا فَأَمْرُهُمَا جَائِزٌ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب دونوں کی رائے جدائی یا اجتماع پر متفق ہو جائے تو پھر ان کا فیصلہ درست ہے۔