کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: میاں بیوی کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہونے پر دو ثالث مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14782
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللهُ بَيْنَهُمَا} [النساء: 35].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللهُ بَيْنَهُمَا﴾ ”اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک ثالث عورت کے خاندان سے مقرر کرو، اگر وہ دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان (میاں بیوی) کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا۔“ [سورة النساء: 35]
حدیث نمبر: 14782
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا} [سورة: النساء، آية رقم: ٣٥] قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَأَمَرَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا ثُمَّ قَالَ لِلْحَكَمَيْنِ: " تَدْرِيَانِ مَا عَلَيْكُمَا عَلَيْكُمَا إِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تَجْمَعَا أَنْ تَجْمَعَا، وَإِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تُفَرِّقَا أَنْ تُفَرِّقَا "، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: رَضِيتُ بِكِتَابِ اللهِ بِمَا عَلَيَّ فِيهِ وَلِي، وَقَالَ الرَّجُلُ: أَمَّا الْفُرْقَةُ فَلَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كَذَبْتَ وَاللهِ حَتَّى تُقِرَّ بِمِثْلِ مَا أَقَرَّتْ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ عبیدہ رحمہ اللہ سے اس آیت ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا﴾ [سورة النساء: 35] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ ایک مرد اور عورت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت تھی، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم فرمایا، چنانچہ دونوں اطراف سے ایک ایک فیصل مقرر کر دیا گیا، پھر ان سے فرمایا: تم دونوں کی کیا ذمہ داری ہے؟ اگر تم دونوں ان کے اکٹھے ہونے یا جدا ہونے کو بہتر خیال کرو تو کر دینا۔ تو عورت نے کہا: جو کتاب اللہ میرے بارے میں فیصلہ فرما دے درست ہے، لیکن مرد نے کہا: جدائی منظور نہیں۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے جھوٹ بولا ہے، تو بھی ویسا ہی اقرار کر جیسے عورت نے اقرار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 14783
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَلَّا وَاللهِ لَا تَنْقَلِبُ حَتَّى تُقِرَّ بِمِثْلِ مَا أَقَرَّتْ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ایوب اپنی سند سے اسی کے ہم معنی ذکر کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو یہاں سے منتقل نہ ہوگا جب تک ویسے ہی اقرار نہ کرے جیسا اقرار عورت نے کیا ہے۔“
حدیث نمبر: 14784
وَبِإِسْنَادِهِ نا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، بِمِثْلِهِ فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: رَضِيتُ وَسَلَّمْتُ فَقَالَ الرَّجُلُ: أَمَّا الْفُرْقَةُ فَلَا فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ لَسْتُ بِبَارِحٍ حَتَّى تَرْضَى بِمِثْلِ مَا رَضِيَتْ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین، عبیدہ سے اس کی مثل نقل فرماتے ہیں کہ عورت نے کہا کہ مجھے فیصلہ منظور ہے، میں رضامند ہوں۔ مرد نے کہا: جدائی منظور نہیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تیرے لیے درست نہیں ہے، تو یہاں سے نہ ہٹ سکے گا جب تک تو ویسے راضی نہ ہو جیسے عورت نے رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 14785
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلَاءِ، نا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْمَرْأَةِ وَقَالَ: أَرَضِيتِ بِمَا حَكَمَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ قَدْ رَضِيتُ بِكِتَابِ اللهِ عَلَيَّ وَلِي، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرَّجُلِ فَقَالَ: قَدْ رَضِيتَ بِمَا حَكَمَا؟ قَالَ: لَا وَلَكِنْ أَرْضَى أَنْ يَجْمَعَا وَلَا أَرْضَى أَنْ يُفَرِّقَا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَذَبْتَ وَاللهِ لَا تَبْرَحُ حَتَّى تَرْضَى بِمِثْلِ الَّذِي رَضِيَتْ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین عبیدہ سے اس کے ہم معنیٰ حدیث روایت کرتے ہیں کہ وہ عورت پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تو ان کے فیصلے پر راضی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ جو بھی کتاب اللہ کا میرے بارے فیصلہ ہوگا، مجھے منظور ہے، پھر مرد کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: کیا تو ان کے فیصلے پر راضی ہے؟ تو اس نے کہا: اکٹھا کر دیں تب تو راضی ہوں، اگر جدائی کروائیں تب فیصلہ منظور نہیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ کی قسم! تو اپنی جگہ سے نہ ہٹے گا جب تک عورت کی طرح رضامندی کا اظہار نہ کرے۔
حدیث نمبر: 14786
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ سَمِعَهُ يَقُولُ: تَزَوَّجَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَاطِمَةَ بِنْتَ عُتْبَةَ فَقَالَتْ: اصْبِرْ لِي وَأُنْفِقْ عَلَيْكَ فَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا، قَالَتْ: أَيْنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَأَيْنَ شَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، فَقَالَ عَلَى يَسَارِكِ فِي النَّارِ إِذَا دَخَلْتِ، فَشَدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا فَجَاءَتْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ فَأَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَأُفَرِّقَنَّ بَيْنَهُمَا وَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا كُنْتُ لِأُفَرِّقَ بَيْنَ شَيْخَيْنِ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ قَالَ: فَأَتَاهُمَا فَوَجَدَهُمَا قَدْ شَدَّا عَلَيْهِمَا أَثْوَابَهُمَا وَأَصْلَحَا أَمْرَهُمَا " وَرَوَى عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بُعِثْتُ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ حَكَمَيْنِ فَقِيلَ لَنَا: إِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تُفَرِّقَا فَرَّقْتُمَا، وَإِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تَجْمَعَا جَمَعْتُمَا.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ بنت عتبہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو وہ کہنے لگی: ٹھہریے، میں تیرے اوپر کچھ خرچ کروں گی۔ جب وہ ان پر داخل ہوئے تو اس نے کہا کہ عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کہاں ہوں گے؟ فرمانے لگے: جب تو جہنم میں داخل ہو گی تو وہ تیرے بائیں جانب ہوں گے، تو اس نے اپنے کپڑے مضبوطی سے باندھ لیے۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آئے تو اس نے ان کے سامنے تذکرہ کیا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کو فیصل بنا دیا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: میں ان کے درمیان جدائی کروا دوں گا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں عبد مناف کے دو شیخوں کے درمیان جدائی نہ کرواؤں گا۔ جب وہ دونوں ان کے پاس آئے تو انہوں نے اپنے کپڑے مضبوطی سے باندھے ہوئے تھے تو انہوں نے صلح کروا دی۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما فیصل تھے، ہمیں کہا گیا کہ اگر جدائی مناسب ہو یا اکٹھا کرنا تو وہی فیصلہ کر دینا۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما فیصل تھے، ہمیں کہا گیا کہ اگر جدائی مناسب ہو یا اکٹھا کرنا تو وہی فیصلہ کر دینا۔
حدیث نمبر: 14787
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " إِنِ اجْتَمَعَ رَأْيُهُمَا عَلَى أَنْ يُفَرِّقَا أَوْ يَجْمَعَا فَأَمْرُهُمَا جَائِزٌ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب دونوں کی رائے جدائی یا اجتماع پر متفق ہو جائے تو پھر ان کا فیصلہ درست ہے۔
حدیث نمبر: 14788
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا وَرْقَاءُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا {إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللهُ بَيْنَهُمَا} [النساء: ٣٥] قَالَ: " يَعْنِي الْحَكَمَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ﴿إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا﴾ [سورة النساء: 35] اگر وہ دونوں اصلاح کا ارادہ کریں تو اللہ ان کو توفیق دے دیتا ہے یعنی فیصلہ کرنے والوں کو۔
حدیث نمبر: 14789
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالَا: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا حَكَمَ أَحَدُ الْحَكَمَيْنِ وَلَمْ يَحْكُمِ الْآخَرُ فَلَيْسَ حُكْمُهُ بِشَيْءٍ حَتَّى يَجْتَمِعَا ".
حافظ ثناء اللہ
حارث، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ایک فیصل فیصلہ کرے اور دوسرا تسلیم نہ کرے تو ان کا فیصلہ معتبر نہیں ہے، جب تک دونوں کی رائے ایک نہ ہو۔
حدیث نمبر: 14790
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً نَشَزَتْ عَلَى زَوْجِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى شُرَيْحٍ فَقَالَ شُرَيْحٌ: " ابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا " فَفَعَلُوا فَنَظَرَ الْحَكَمَانِ إِلَى أَمْرِهِمَا فَرَأَيَا أَنْ يُفَرِّقَا بَيْنَهُمَا فَكَرِهَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ شُرَيْحٌ: " فَفِيمَ كُنَّا فِيهِ الْيَوْمَ وَأَجَازَ أَمْرَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت حصین، امام شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب عورت نے خاوند کی نافرمانی کی تو فیصلہ قاضی شریح رحمہ اللہ کی عدالت میں آیا، قاضی شریح رحمہ اللہ نے دونوں جانب سے ایک ایک فیصل مقرر کر دیا تو دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے درمیان جدائی کر دی جائے تو مرد نے اسے ناپسند کیا۔ قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: ہم آج کس کا فیصلہ تسلیم کریں؟ تو قاضی نے دونوں کے فیصلے کو درست قرار دیا۔
حدیث نمبر: 14791
قَالَ: وَنا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: " مَا يَحْكُمُ الْحَكَمَانِ مِنْ شَيْءٍ جَازَ إِنْ فَرَّقَا أَوْ جَمَعَا " وَعَنْ عُبَيْدَةَ مِثْلُهُ.
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن ابی خالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے شعبی رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ فیصل جو فیصلہ کر دیں وہ جائز ہے، اگرچہ وہ دونوں جدا کر دیں یا جمع کر دیں۔
حدیث نمبر: 14792
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ الْحَكَمَيْنِ، فَقَالَ لَمْ أُدْرِكْ إِذْ ذَاكَ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنِ الْحَكَمَيْنِ اللَّذَيْنِ فِي كِتَابِ اللهِ أَعْنِي الْقُرْآنَ، قَالَ: " يَبْعَثُ حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا فَيُكَلِّمُونَ أَحَدَهُمَا وَيَعِظُونَهُ فَإِنْ رَجَعَ وَإِلَّا كَلَّمُوا الْآخَرَ وَوَعَظُوهُ فَإِنْ رَجَعَ وَإِلَّا حَكَمَا فَمَا حَكَمَا مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے دو فیصلہ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا تو فرمانے لگے: مجھے معلوم نہیں، لیکن میں کتاب اللہ یعنی قرآن مجید سے پوچھوں گا، راوی کہتے ہیں: وہ میاں بیوی دونوں میں سے ہر ایک کو وعظ و نصیحت کریں گے، اگر ایک مان جائے تو پھر دوسرے سے بات کریں، اگر وہ بھی مان جائے تو درست، وگرنہ جو بھی دونوں فیصل فیصلہ کر دیں۔
حدیث نمبر: 14793
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، نا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا} [النساء: ٣٥] قَالَ: " إِنَّمَا عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا وَأَنْ يَنْظُرَا فِي ذَلِكَ وَلَيْسَ الْفُرْقَةُ فِي أَيْدِيهِمَا " هَذَا خِلَافُ مَا مَضَى وَهُوَ أَصَحُّ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ وَعَلَيْهِ يَدُلُّ ظَاهِرُ مَا رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا أَنْ يَجْعَلَاهَا إِلَيْهِمَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قتادہ رحمہ اللہ، سیدنا حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا﴾ [سورة النساء: 35] کہ فیصلہ کرنے والے اکٹھا کروا سکتے ہوں، جدائی کا ان کو اختیار نہیں ہے۔