السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحكمين في الشقاق بين الزوجين باب: میاں بیوی کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہونے پر دو ثالث مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14785
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلَاءِ، نا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْمَرْأَةِ وَقَالَ: أَرَضِيتِ بِمَا حَكَمَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ قَدْ رَضِيتُ بِكِتَابِ اللهِ عَلَيَّ وَلِي، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرَّجُلِ فَقَالَ: قَدْ رَضِيتَ بِمَا حَكَمَا؟ قَالَ: لَا وَلَكِنْ أَرْضَى أَنْ يَجْمَعَا وَلَا أَرْضَى أَنْ يُفَرِّقَا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَذَبْتَ وَاللهِ لَا تَبْرَحُ حَتَّى تَرْضَى بِمِثْلِ الَّذِي رَضِيَتْ بِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین عبیدہ سے اس کے ہم معنیٰ حدیث روایت کرتے ہیں کہ وہ عورت پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تو ان کے فیصلے پر راضی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ جو بھی کتاب اللہ کا میرے بارے فیصلہ ہوگا، مجھے منظور ہے، پھر مرد کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: کیا تو ان کے فیصلے پر راضی ہے؟ تو اس نے کہا: اکٹھا کر دیں تب تو راضی ہوں، اگر جدائی کروائیں تب فیصلہ منظور نہیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ کی قسم! تو اپنی جگہ سے نہ ہٹے گا جب تک عورت کی طرح رضامندی کا اظہار نہ کرے۔