السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحكمين في الشقاق بين الزوجين باب: میاں بیوی کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہونے پر دو ثالث مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14784
وَبِإِسْنَادِهِ نا سَعِيدٌ، نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، بِمِثْلِهِ فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: رَضِيتُ وَسَلَّمْتُ فَقَالَ الرَّجُلُ: أَمَّا الْفُرْقَةُ فَلَا فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ لَسْتُ بِبَارِحٍ حَتَّى تَرْضَى بِمِثْلِ مَا رَضِيَتْ بِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین، عبیدہ سے اس کی مثل نقل فرماتے ہیں کہ عورت نے کہا کہ مجھے فیصلہ منظور ہے، میں رضامند ہوں۔ مرد نے کہا: جدائی منظور نہیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تیرے لیے درست نہیں ہے، تو یہاں سے نہ ہٹ سکے گا جب تک تو ویسے راضی نہ ہو جیسے عورت نے رضامندی کا اظہار کیا ہے۔