السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحكمين في الشقاق بين الزوجين باب: میاں بیوی کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہونے پر دو ثالث مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14783
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَلَّا وَاللهِ لَا تَنْقَلِبُ حَتَّى تُقِرَّ بِمِثْلِ مَا أَقَرَّتْ بِهِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ایوب اپنی سند سے اسی کے ہم معنی ذکر کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو یہاں سے منتقل نہ ہوگا جب تک ویسے ہی اقرار نہ کرے جیسا اقرار عورت نے کیا ہے۔“