السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحكمين في الشقاق بين الزوجين باب: میاں بیوی کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہونے پر دو ثالث مقرر کرنے کا بیان۔
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللهُ بَيْنَهُمَا} [النساء: 35].اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللهُ بَيْنَهُمَا﴾ ”اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک ثالث عورت کے خاندان سے مقرر کرو، اگر وہ دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان (میاں بیوی) کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا۔“ [سورة النساء: 35]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا} [سورة: النساء، آية رقم: ٣٥] قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَأَمَرَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا ثُمَّ قَالَ لِلْحَكَمَيْنِ: " تَدْرِيَانِ مَا عَلَيْكُمَا عَلَيْكُمَا إِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تَجْمَعَا أَنْ تَجْمَعَا، وَإِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تُفَرِّقَا أَنْ تُفَرِّقَا "، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: رَضِيتُ بِكِتَابِ اللهِ بِمَا عَلَيَّ فِيهِ وَلِي، وَقَالَ الرَّجُلُ: أَمَّا الْفُرْقَةُ فَلَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كَذَبْتَ وَاللهِ حَتَّى تُقِرَّ بِمِثْلِ مَا أَقَرَّتْ بِهِ ".ابن سیرین رحمہ اللہ عبیدہ رحمہ اللہ سے اس آیت ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا﴾ [سورة النساء: 35] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ ایک مرد اور عورت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت تھی، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم فرمایا، چنانچہ دونوں اطراف سے ایک ایک فیصل مقرر کر دیا گیا، پھر ان سے فرمایا: تم دونوں کی کیا ذمہ داری ہے؟ اگر تم دونوں ان کے اکٹھے ہونے یا جدا ہونے کو بہتر خیال کرو تو کر دینا۔ تو عورت نے کہا: جو کتاب اللہ میرے بارے میں فیصلہ فرما دے درست ہے، لیکن مرد نے کہا: جدائی منظور نہیں۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے جھوٹ بولا ہے، تو بھی ویسا ہی اقرار کر جیسے عورت نے اقرار کیا ہے۔