السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عظم حق الزوج على المرأة باب: عورت پر شوہر کے حق کی عظمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14706
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ قَالَ: " أَيْ هَذِهِ أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " فَكَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟ " قَالَتْ: مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ، قَالَ: " فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ ".حافظ ثناء اللہ
حصین بن محصن کہتے ہیں کہ میری پھوپھی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی ﷺ کے پاس کسی کام کے لیے گئی تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرا خاوند ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری کیا حالت ہے اس کے لیے؟“ اس نے کہا: میں کمی نہیں کرتی جب تک میں عاجز نہ آجاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس سے کہاں ہے؟ وہ تیری جنت اور جہنم ہے۔“