حدیث نمبر: 14705
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الزِّيَادِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ: قَدِمْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُ ⦗٤٧٦⦘ أَهْلَهَا يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانَ لَهُمْ فَقُلْتُ نَحْنُ كُنَّا أَحَقَّ أَنْ نَسْجُدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَيْهِ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ قُلْتُ: نَحْنُ كُنَّا أَحَقَّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ فَقَالَ: " لَا تَفْعَلُوا أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَكُنْتَ سَاجِدًا؟ " قُلْتُ: لَا قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا فَإِنِّي لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللهُ مِنْ حَقِّهِمْ عَلَيْهِنَّ " وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ شَرِيكٍ فَقَالَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ

شعبی رحمہ اللہ، قیس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حیرہ شہر میں آیا تو وہاں کے لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے تھے۔ میں نے کہا کہ ہم زیادہ حق دار ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو سجدہ کریں، میں نے واپس آکر جو دیکھا تھا نبی ﷺ کو بتایا اور کہا کہ ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرنا، کیا تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو سجدہ کرو گے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو۔ اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں، کیونکہ ان کے حقوق اللہ رب العزت نے ان پر رکھے ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14705
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»