السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عظم حق الزوج على المرأة باب: عورت پر شوہر کے حق کی عظمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14707
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَةٍ لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ ابْنَتِي قَدْ أَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطِيعِي أَبَاكِ "، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ قَالَ: " حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَوْ كَانَتْ لَهُ قُرْحَةٌ فَلَحَسَتْهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ ".حافظ ثناء اللہ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیٹی کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میری اس بیٹی نے شادی سے انکار کر دیا ہے،“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اپنے باپ کی اطاعت کرو۔“ وہ کہنے لگی: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! جب تک آپ مجھے خاوند کا حق بیوی پر کیا ہے نہ بتائیں گے تو میں شادی نہ کروں گی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خاوند کا حق بیوی پر اتنا ہے کہ اگر خاوند کو زخم ہو اور بیوی اس کے زخم کو چاٹ کر صاف کرے تب بھی خاوند کا حق ادا نہیں ہوتا۔“