حدیث نمبر: 14700
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي شِمْرُ بْنُ نُمَيْرٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِبَنِي زُرَيْقٍ فَسَمِعُوا غِنَاءً وَلَعِبًا فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ " قَالُوا: نِكَاحُ فُلَانٍ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " كَمَّلَ دِينَهُ هَذَا النِّكَاحُ لَا السِّفَاحُ، وَلَا نِكَاحُ السِّرِّ حَتَّى يُسْمَعَ دُفٌّ أَوْ يُرَى دُخَانٌ " قَالَ حُسَيْنٌ: وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِالدُّفِّ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بنو زریق کے پاس سے گزرے تو انہوں نے گانے اور کھیل کی آواز کو سنا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ فلاں کا نکاح ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نکاح دین کو مکمل کرنے والا ہے نہ کہ زنا اور نکاح پوشیدہ نہیں ہوتا یہاں تک کہ دف کی آواز سنی جائے یا دھواں دیکھا جائے۔“
(ب) عمرو بن یحییٰ مازنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پوشیدہ نکاح کرنا ناپسند کرتے تھے حتیٰ کہ اس پر دف بجایا جائے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14700
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «موضوع»