السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من إظهار النكاح وإباحة الضرب بالدف عليه وما لا يستنكر من القول باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 14699
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ، وَلْيُولِمْ أَحَدُكُمْ وَلَوْ بِشَاةٍ، فَإِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً وَقَدْ خَضَبَ بِالسَّوَادِ فَلْيُعْلِمْهَا وَلَا يَغُرَّنَّهَا " عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نکاح کا اعلان کیا کرو اور نکاح مسجدوں میں کیا کرو اور اس پر دف بجایا کرو اور ولیمہ کیا کرو، چاہے ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔ جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے اور وہ سیاہ رنگ والا ہو تو اس عورت کو بتا دے، دھوکا نہ دے۔“