السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من إظهار النكاح وإباحة الضرب بالدف عليه وما لا يستنكر من القول باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 14697
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ صَوْتًا، أَوْ دُفًّا قَالَ: مَا هَذَا؟ فَإِنْ قَالُوا: عُرْسٌ أَوْ خِتَانٌ صَمَتَ.حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب کوئی آواز یا دف بجتا سنتے تو پوچھتے: یہ کیا ہے؟ اگر وہ کہتے کہ شادی یا ختنہ کی محفل ہے تو وہ خاموش ہو جاتے۔