السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من إظهار النكاح وإباحة الضرب بالدف عليه وما لا يستنكر من القول باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
يَعْنِي مَا أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا الْحَسَنُ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً سِرًّا فَكَانَ يَخْتَلِفُ إِلَيْهَا فَرَآهُ جَارٌ لَهَا فَقَذَفَهُ بِهَا فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَيِّنَتُكَ عَلَى تَزْوِيجِهَا، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كَانَ أَمْرٌ دُونَ فَأَشْهَدْتُ عَلَيْهِ أَهْلَهَا فَدَرَأَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْحَدَّ عَنْ قَاذِفِهِ، وَقَالَ: " حَصِّنُوا فَرُوجَ هَذِهِ النِّسَاءِ، وَأَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَنَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ ".حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے پوشیدہ طور پر ایک عورت سے شادی کر لی، وہ اپنی عورت کے پاس آتا جاتا تھا تو اس کے ہمسائے نے اس عورت کو دیکھ لیا، اس نے تہمت لگا دی اور اس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی شادی پر تمہارا کون گواہ ہے؟ تو اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ ایک پوشیدہ معاملہ تھا یا چھوٹا سا کام تھا، میں نے اس کے گھر والوں کو گواہ بنا لیا تھا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تہمت لگانے والے پر حد نہ لگائی اور فرمایا: تم ان عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کرو اور نکاح کا اعلان کیا کرو، اور آپ نے متعہ سے منع فرمایا۔