السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من إظهار النكاح وإباحة الضرب بالدف عليه وما لا يستنكر من القول باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 14694
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو بَلْجٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَصْلٌ بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ وَضَرْبُ الدُّفِّ فِي النِّكَاحِ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن حاطب رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حلال و حرام کے درمیان فاصلہ کرنے والی چیز آواز ہے اور نکاح کے موقع پر دف بجانا۔“