❮
❯
حدیث نمبر: 14693
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ وَذَكَرَ ثَالِثًا قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: ذَهَبَ عَلَيَّ وَجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيُغَنِّينَ فَقُلْتُ: تُقِرُّونَ عَلَى هَذَا وَأَنْتُمْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: " إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لَنَا فِي الْعُرُسَاتِ وَالنِّيَاحَةِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ " وَرَوَاهُ شَرِيكٌ بِمَعْنَاهُ، وَذَكَرَ قَرَظَةَ وَأَبَا مَسْعُودٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَفِي الْبُكَاءِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ قَالَ شَرِيكٌ: أُرَاهُ قَالَ فِي غَيْرِ نَوْحٍ.
حافظ ثناء اللہ

عامر بن سعد بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں قرظہ بن کعب اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے تیسرے کا بھی ذکر کیا ہے۔ عبدالملک کہتے ہیں کہ اس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ بچیاں دف بجا کر گا رہی تھیں، میں نے کہا: ”تم اس کو برقرار رکھتے ہو حالانکہ تم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہو؟“ انہوں نے کہا: ”شادی کے موقع پر ہمیں رخصت دی گئی اور مصیبت کے وقت نوحہ کرنے کی۔“
(ب) شریک فرماتے ہیں کہ قرظہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مصیبت کے وقت رونے کی اجازت ہے، شریک کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ بغیر نوحہ کے رونے کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14693
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»