السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من إظهار النكاح وإباحة الضرب بالدف عليه وما لا يستنكر من القول باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 14693
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَامِيِّ بِبَغْدَادَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ وَذَكَرَ ثَالِثًا قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: ذَهَبَ عَلَيَّ وَجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيُغَنِّينَ فَقُلْتُ: تُقِرُّونَ عَلَى هَذَا وَأَنْتُمْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: " إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لَنَا فِي الْعُرُسَاتِ وَالنِّيَاحَةِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ " وَرَوَاهُ شَرِيكٌ بِمَعْنَاهُ، وَذَكَرَ قَرَظَةَ وَأَبَا مَسْعُودٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَفِي الْبُكَاءِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ قَالَ شَرِيكٌ: أُرَاهُ قَالَ فِي غَيْرِ نَوْحٍ.حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں قرظہ بن کعب اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے تیسرے کا بھی ذکر کیا ہے۔ عبدالملک کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے اور بچیاں دف بجا کر گا رہی تھیں، انہوں نے کہا: ”تم یہاں ٹھہرے ہوئے ہو اور تم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ہو؟“ انہوں نے کہا: ”شادی کے موقع پر ہمیں رخصت دی گئی اور مصیبت کے وقت نوحہ کرنے کی۔“
(ب) شریک فرماتے ہیں کہ قرظہ اور ابو مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مصیبت کے وقت رونے کی اجازت ہے، شریک کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ بغیر نوحہ کے رونے کی۔