السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من إظهار النكاح وإباحة الضرب بالدف عليه وما لا يستنكر من القول باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 14688
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنا أَبُو دَاوُدَ، نا مُسَدَّدٌ، نا بِشْرُ بْنُ المُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيَّ صَبِيحَةَ بُنِيَ بِي فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ الدُّفَّ لَهُنَّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ:.حافظ ثناء اللہ
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، جس صبح میری رخصتی کی گئی تو آپ ﷺ میرے بستر پر اس طرح بیٹھ گئے جیسے آپ بیٹھے ہیں اور بچیاں دف بجانے لگیں، وہ میرے ابا جو بدر میں مقتول ہوئے تھے ان کا مرثیہ پڑھ رہی تھیں۔ ان میں سے ایک بچی نے کہا کہ ہمارے نبی ﷺ کل کی بات جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو چھوڑو وہی بات کہو جو پہلے کہہ رہی تھیں۔“