السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من إظهار النكاح وإباحة الضرب بالدف عليه وما لا يستنكر من القول باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 14687
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ نا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: نَقَلْنَا امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى زَوْجِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ كَانَ مَعَكُمْ لَهْوٌ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُحِبُّونَ اللهْوَ " ⦗٤٧١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: زَنَتِ امْرَأَةٌ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے ایک انصاری عورت کو اس کے خاوند کے پاس منتقل کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی کھیل ہے؟ کیونکہ انصاری کھیل کو پسند کرتے ہیں۔“
(ب) محمد بن سابق بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کی رخصتی کی گئی۔