السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: اختناث الأسقية وما يكره من ذلك باب: مشکیزوں کے منہ موڑ کر پینے اور اس کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 14666
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ، وَقَالَ: " إِنَّهُ يُنْتِنُهُ " هَكَذَا رُوِيَ مُرْسَلًا وَأَمَّا الَّذِي رُوِيَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فَأَخْبَارُ النَّهْيِ أَصَحُّ إِسْنَادًا وَقَدْ حَمَلَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى مَا لَوْ كَانَ السِّقَاءُ مُعَلَّقًا فَلَا تَدْخُلُهُ هَوَامُّ الْأَرْضِ، وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الْمَعْرِفَةِ، وَكِتَابِ الْجَامِعِ.حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مشکیزے کے منہ سے پینے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”وہ خراب ہو جاتا ہے۔“ یہ روایت اسی طرح مرسل نقل ہوئی ہے، اور جو روایت اس بارے میں رخصت کی منقول ہے تو ممانعت والی روایات سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہیں۔
بعض علماء نے اسے اس صورت پر محمول کیا ہے کہ جب مشکیزہ لٹکا ہوا ہو تو حشرات الارض اس میں داخل نہ ہو سکیں گے۔