السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: اختناث الأسقية وما يكره من ذلك باب: مشکیزوں کے منہ موڑ کر پینے اور اس کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 14665
وَفِي رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ، بِإِسْنَادِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ مِنْ فِي السِّقَاءِ.حافظ ثناء اللہ
ایوب رحمہ اللہ اپنی سند سے نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ”آدمی کو مشکیزے کے منہ سے (منہ لگا کر) پینے سے منع فرمایا۔“ ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے خبر ملی کہ اس شخص نے مشکیزے کے منہ کو منہ لگا کر پانی پیا تو سانپ نکل آیا۔